Breaking

Showing posts with label blog. Show all posts
Showing posts with label blog. Show all posts

Thursday, 14 January 2021

15:43

میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی ,جبکہ میں پڑھی لکھی ہوں

 میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی 

جبکہ میں پڑھی لکھی ہوں 

میرا نام شہزادی ہے سچ بتاوں تو میرا خواب تھا ایک پڑھا لکھا اچھا کمانے والا لڑکا 

لیکن کچھ مجبوریوں میں عمر سے شادی کر دی گئی 

مجھے عمر سے بدبو آتی تھی  

ان کا کام  اتنا  اچھا نہ تھا 

خیر میں اللہ کے سامنے رو کر دعا مانگتی  تھی یا اللہ 

یا تو عمر کو مار دے یا پھر اس سے جان چھڑوا دو میری کسی طرح 

💕وہ جاہل سا بولنے کا بھی نہیں پتا 

میں ہر بات پہ عمر کو بے عزت کر دیتی 

تنقید کرتی عمر پہ غصہ کرتی 

عمر مجھے پیار سے سمجھاتا 

کبھی چپ ہو جاتا 

کبھی غصہ ہو کر گھر سے  باہر چلا جاتا 

💕میں ایک بار جھگڑ کر امی ابو کے پاس چلی گئی اور ضد کی کے بس طلاق لینی ہے عمر سے 

امی ابو نے بہت سمجھایا کے بیٹی لڑکا اچھا ہے نہ کرو ایسا 

بس بیچارہ پڑھا لکھا نہیں ہے 

باقی کیا کبھی اس نے تم پہ ہاتھ اٹھا یا یا گالی دی ہو 

لیکن میں بس طلاق لینا چاہتی تھی 

میں نے جھوٹ بولا کے وہ خرچہ نہیں دیتا مجھے 

امی ابو نے عمر کو بلوا لیا 

وہ میرے سامنے بیٹھا تھا 

امی ابو کہنے لگے عمر کیوں بھای تم شہزادی کو خرچہ کیوں نہیں دیتے

💕عمر بابا سے مخاطب ہو کر بولا 

انکل جی جو کما کر لاتا ہوں سب اخراجات نکال کر جو بچتا یے شہزادی ہاتھ پہ رکھ دیتا ہوں 

میرے چاچا  تایا سب موجود تھے وہاں 

میں بولی  مجھے 30 ہزار روپے ہر مہینے چاہئے بس 

اس شرط پہ ہی جاوں گی میں عمر کے ساتھ 

عمر خاموش ہو گیا 

سر جھکائے بیٹھا تھا 

💕چاچا بولے  ہاں عمر دے سکتے ہو خرچہ 30 ہزار 

کچھ لمحے خاموش رہا پھر میری طرف دیکھنے لگا

لمبی سانس کی بولا ٹھیک ہے میں شہزادی کو 30 ہزار روپے دوں گا الگ سے ہر مہینے 

میں نے دل کی  گالی دی کمینے دیکھنا جینا حرام کر دوں گی تمہارا 

میں عمر کے ساتھ چلی گئی 

ہم بجلی پانی گیس  کا بل راشن کھانا سب اخراجات بھی تھے 

💕عمر سے جب بھی پوچھا کیا کام کرتے ہو تو کہتا گورنمنٹ آفس میں کام کرتا ہوں 

اس کے علاوہ نہ میں کبھی پوچھا نہ انھوں نے بتایا 

خیر عمر مجھے ہر مہینے 30 ہزار روپے دیتا 

ایک دن میں نے کہا مجھے آئی فون لیکر دو 

میں بس تنگ کرنا چاہتی تھی کے عمر مجھے طلاق دے دے 

عمر مسکرانے لگا 

میرے پاوں پکڑے اور بولا شہزادی لے دوں گا پریشان  نہ ہو

تم بس مجھے چھوڑ کر جانے کی بات نہ کیا کرو

جو کہو گی کروں گا 

میں کبھی کھانے میں مرچ ڈال دیتی تو کبھی زیا دہ نمک  

وہ تھکا ہارا کام سے آتا کھانا کھا کر بے ہوشی کی طرح سو جاتا 

💕نہ جانے کون سا کام کرتا تھا کے اتبا تھک جاتا ہے 

میں جتنی نفرت کرتی تھی اس جاہل سے وہ اتنی محبت کرتا تھا 

میں ایک دن اپنی دوست کے ساتھ کار میں شاپنگ کرنے جا رہے تھے شہر کے سب مہنگے اور بڑے مال میں 

جب ہم ایک بس اڈے کے پاس سے گزرے تو 

میری زندگی نے جو لمحہ دیکھا 

میں بے جان ہو گئی 

وہ عمر جسے میں بہت نفرت کرتی تھی 

💕جس کو میں جاہل ان پڑھ کہتی  تھی 

جس کو کبھی میں نے پیار سے کھانا تک نہ دیا تھا 

جس کا کبھی حال نہ پوچھا تھا 

جسے میں انسان ہی نہیں سمجھتی تھی 

جسے میں قبول ہی نہیں کرنا چاہتی تھی 

وہ عمر سر پہ بوجھ اٹھائے کسی کا سامان بس پہ چڑھا رہا تھا 

ٹانگیں کانپ رہی تھی 

پرانے سے کپڑے پہنے 

پسینے سے شرابور 

پاوں میں ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی 

💕فارس میں مر کیوں نہ گئی تھی 

وہ میرے لیئے کیا کچھ کر رہا تھا 

اتنے میں ایک شخص بولا اوئے چل یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کئ چھت پہ لوڈ کر 

عمر کو شاید بھوک لگی تھی 

ہاتھ میں روٹی پکڑی رول کیا ہوا 

ساتھ روٹی کھا رہا تھا ساتھ سامان اٹھا رہا تھا 

میں قربان جاوں 

میرا عمر میرے لیئے کس  درد سے گزر رہا تھا 

میں آنسو لیئے دیکھتی رہی 

کام ختم ہوا 

وہاں سائیڈ پہ ایک دکان کے سامنے زمین پہ بیٹھ گیا

کتنی بے بسی تھکن تھی عمر میں 

سارا دن وہاں درد سہنا رات کو میری باتیں 

فارس سر وہ حادثہ تھا یا اللہ کی مرضی بس میرا دل بدل گیا 

💕میں بن بتائے کچھ خریدے  گھر واپس لوٹ گئی 

بہت روئی تھی بہت  زیادہ 

عمر کو پلاو پسند تھا میں نے پلاو بنایا 

عمر گھر آیا 

میں اسے کھانا نہیں دیتی تھی خود گرم کر کے کھاتا تھا 

گھر آیا 

مجھ سے سلام کیا کچن  میں گیا 

پلاو دیکھ کر بولا شہزادی آج تو آپ نے کمال کر دیا 

ایک سال بعد پلاو  کھانے لگا ہوں 

فارس سر کھانا پلیٹ میں ڈال کر میرے پاس بیٹھ گئے کھانا کھانے لگے میں عمر کی طرف دیکھے  جا رہی تھی 

عمر کتنا درد سہتا  ہے اور بتاتا بھی نہیں 

میں کتنی اذیت دیتی ہوں کوئی شکوہ نہیں 

عمر پہ آج مجھے بہت پیار آ رہا تھا 

دل چاہ رہا تھا سینے سے لپٹ جاوں 

عمر نے کھانا کھایا 

پھر جیب سے پیسے نکالے کہنے لگا یہ لو شہزادی 30 ہزار 

میں چیخ چیخ کر رونے لگی عمر کے پاوں چوم لیئے 

عمر مجھے کچھ بھی نہیں چاہئے 

مجھے یہ پیسے  نہیں چاہئے 

عمر حیران تھا مجھے کیا ہو گیا ہے 

عمر نے میرا ہاتھ تھاما بولے 

اگر یہ پیسے کم ہیں تو اور لا دوں گا مجھے چھوڑ کر نہ جانا 

💕کہنے لگے شہزادی بہت بھولی ہو تم 

پاگل تم بچھڑنے کے بعد کہاں بھٹکو  گی خدا جانے 

بہت پیار کرتا ہوں نا تم سے اسلیئے تم کو خود سے دور نہیں کر سکتا 

میں عمر کے سینے سے لگ گئی آج مجھے 

نہ کوئی آئی فون چاہئے تھا نہ کوئی بڑا گھر گاڑی 

مجھے اب دنیا کی کوئی خبر نہ تھی میری دنیا عمر بن چکا تھا 

ہم عورتیں کیسے منہ پھاڑ کر کہہ دیتی ہیں جب کھلا نہیں سکتے تھے تو شادی کیوں کی 

بات بات پہ جھگڑا اور طعنے شروع کر دیتی ہیں 

کبھی اہنے شوہر کا وہ چہرہ دیکھنا جس میں نے عمر کا دیکھا تھا 

خدا کی قسم  ہم ایک سانس نہ لے سکیں اس ماحول میں یہاں مرد اپنی فیملی کے لیئے خود کو قربان کر دیتا ہے 

جتنے شوہر کماتا ہے اس پہ خوش رہو 

پیسہ بھی سب کچھ نہیں ہوتا 

خدا کی قسم مجھے بڑی گاڑیوں اور اے سی والے محل میں وہ سکون نہیں ملا جس سکون  عمر کی بانہوں  میں آتا ہے 

جو سکون عمر کا سر دبانے میں آتا ہے ۔جو سکون 

عمر کی پسند کے کھانے بنانے میں آتا ہے 

ہمسفر کی بے بسی کو سمجھو تو سہی 

💕دیکھ تو سہی 

آپ کبھی جھگڑا نہیں کریں گی 

عمر اب میری زندگی ہے 

اور میں عمر کی شہزادی 

 

شاید کوئی لڑکی  سنبھل جائے یہ پڑھ کر

Sunday, 25 October 2020

10:30

انصاف نہ چھوڑ دینا

 

اے ایمان والو! عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی مولا کے لئے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ گو وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ داروں عزیزوں کے  وہ شخص اگر امیر ہو تو اور فقیر ہو تو دونوں کے ساتھ اللہ کو زیادہ تعلق ہے  اس لئے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا  اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالٰی اس سے پوری طرح باخبر ہے ۔


Friday, 23 October 2020

19:11

ایک اجنبی نوکری کے لئے بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا


ایک اجنبی نوکری کے لئے بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا 

اہلیت سے پوچھا گیا .. انہوں نے کہا کہ میں سیاسی ہوں (عرب میں ، جو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرتا ہے اسے سیاسی کہا جاتا ہے

بادشاہ کے پاس بہت سارے سیاستدان تھے ، انہیں گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج لگایا گیا تھا کیونکہ سابق انچارج کا انتقال ہوگیا تھا۔

کچھ دن بعد بادشاہ نے اپنے قیمتی اور پیارے گھوڑے کے بارے میں پوچھا۔

انچارج نے بتایا کہ گھوڑا نسلی نہیں تھا۔

بادشاہ کو حیرت ہوئی ، گھوڑے کے نگراں شخص نے اس کنبہ کو دریافت کیا۔

انہوں نے بتایا کہ گھوڑا ایک نسل ہے لیکن اس کی ماں پیدائش کے وقت ہی فوت ہوگئی اور اس نے ایک گائے کا دودھ پی لیا اور دودھ چھڑا لیا۔

انچارج کنبہ ، آپ کو کیسے پتہ تھا کہ گھوڑا نسل نہیں ہے؟

اس نے گانا گا کہ جب گھوڑا گھاس کھاتا ہے تو وہ اس کا سر گائے کی طرح نیچے کرتا ہے جبکہ نسلی گھوڑا سر اٹھاتا ہے۔

بادشاہ اس کی آسانی اور حکمت سے متاثر ہوا اور اسے اناج ، گھی ، بھیڑ اور مرغی کے ایک بڑے انعام کے ساتھ گھر بھیج دیا ، اور اس کے ساتھ ملکہ کے محل میں مقرر کیا۔

کچھ دن بعد ، بادشاہ نے اس سے ملکہ کے بارے میں پوچھا۔

جس طرح اس نے کہا کہ ملکہ ہے لیکن شہزادی نہیں ہے۔

بادشاہ کے پاؤں سے زمین پھسل گئی ، اور اسے ہوش آیا۔ سیسی چیس: آپ کے والد نے میرے شوہر سے ہماری بیٹی کے ساتھ تعلقات رکھنے کو کہا لیکن وہ 6 ماہ بعد فوت ہوگئیں۔ چنچ نے بادشاہ سے قریبی تعلقات برقرار رکھنے کے لئے کسی اور کی بیٹی کو گود لیا تھا۔

بادشاہ نے انچارج سے استفسار کیا کہ آپ کو کیسے پتہ

انہوں نے کہا کہ ان کے نوکروں کے ساتھ سلوک جاہلیت سے بھی بدتر ہے۔

بادشاہ اس کی آسانی سے بہت متاثر ہوا اور اس کو بہت زیادہ اناج ، بھیڑ اور بکری دے کر نوازا ، اور اسے عدالت میں اپنا خاص ساتھی مقرر کیا۔

ساتھی خاندان کے بادشاہ نے اپنے بارے میں پوچھا .. ساتھی چیس .. جان سلامت رہنا چاہئے .. کنگ نے وعدہ کیا ..

اس نے کہا ، "نہ تو آپ بادشاہ کے بیٹے ہیں ، اور نہ ہی آپ بادشاہ کی طرح سلوک کرتے ہیں۔

بادشاہ بہت ناراض تھا ، جان نے حکم دیا تھا .. سیدھا اپنی ماں کے پاس گیا ، ماں کا پیچھا کرنا یہ سچ ہے ، آپ چرواہے کے بیٹے ہیں ، ہمارے بچے نہیں تھے لہذا ہم آپ کو لے گئے۔

بادشاہ نے اپنے ساتھی کو بلایا اور پوچھا ، آپ کو کیسے پتہ چلا

اس نے کہا بادشاہ! جب بادشاہ زیورات کی شکل میں ہیرے کے موتیوں کو انعام دیتے ہیں .. لیکن آپ بھیڑ بکریوں. آپ کھانے پینے کا عطیہ کرتے ہیں۔ یہ بادشاہ کے سرپرست کا طریقہ ہوسکتا ہے۔

تو

عادات نسلوں سے خطاب کرتے ہیں۔

عادات ، اخلاق اور طرز عمل ... خون اور نسل دونوں کو متعارف کرواتے ہیں

Thursday, 22 October 2020

10:03

سموگ دھواں کیا ہے

 

آج کے انسان نے بے حد ترقی کرلی ہے مگر اس ترقی کے جہاں ثمرات حاصل ہوئے وہیں بے شمار نقصانات بھی اٹھانے پڑے ہیں ۔ہم انسان کو درپیش دیگر مسائل کی بات کرتے ہیں تو ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ماحول جس میں ہم سانس لے رہے ہیں اس کی بات نہ کی جائے ۔صنعتی انقلاب نے جہاں ہماری زندگیوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا وہیں ماحول میں بھی بے شمار تبدیلیاں رونما ہوئیں اور انہی تبدیلیوں میں سے ایک ماحولیاتی آلودگی بھی ہے 
سردیوں کے موسم میں ہم آئے دن خبروں میں سنتے ہیں کہ کل عالم سموگ کی لپیٹ میں ہیں اور اس کے مضر اثرات کے بارے میں بھی سننے میں آتا رہتاہے۔ آلودگی بذات خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے مگر اس کے نتائج میں سے ایک بھیانک نتیجہ سموگ بھی ہے ۔
عام آدمی کے لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ سموگ کیا ہے ؟اس کے اثرات اور اس سے بچاو کی تدابیر کیا کیا ہیں ؟
لفظ سموگ انگریزی زبان کے الفاظ ”سموک “اور ”فوگ“سے نکلا ہے ۔
جس کا مطلب ہے ”دھواں ملی آلودہ دھند ہے “سردیوں میں ہوا میں موجود نمی درجہ حرارت میں کمی کے باعث منجمد ہونا شروع ہو جاتی ہے جسے ہم کنڈ ینسیشن کا عمل کہتے ہیں جو عمل تبخیر کا اُلٹ ہوتا ہے ۔تاہم ہوا میں موجود نمی موسم سرما میں سفید رنگ کی دھند کا باعث بنتی ہے جو کہ عمومی سی بات ہے ۔
مگر خطرے کی بات یہ ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے یہ دھند آلودہ ہونا شروع ہو گئی ہے اور اس دھوئیں سے مل کر یہ زہریلی دھند بنا دیتی ہے ۔
سموگ عام طور پر کار بن ڈائی آکسائیڈ ،کاربن مونو آکسائیڈ اور فضا میں ہائیڈروکاربنز کی بڑی مقدار میں موجود گی کے باعث بنتی ہے ۔یہ عناصر عام طور پر گاڑیوں کے دھوئیں میں موجود ہوتے ہیں جو فضا میں سورج کی روشنی کی موجودگی میں ری ایکشن کرکے پیلی یا گدلے رنگ کی دھند پیدا کرتے ہیں جو حد نگاہ کو خطر ناک حد تک کم کر دیتی ہے ۔
آئے دن ہم خبروں میں سنتے ہیں کہ سموگ کی وجہ سے حد نگاہ بہت کم ہونے کے باعث گاڑیوں میں تصادم ہو گیا جس کی وجہ سے بے شمار مالی اور جانی نقصانات ہوتے رہتے ہیں ۔
سموگ نہ صرف ٹریفک کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہے بلکہ یہ سانس اور جلد کی بیماریوں کا بھی موجب بن رہی ہے بچوں اور بوڑھوں کو خصوصاً سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے ۔وہ دمہ،برونکائٹس اور پھیپھڑوں کے دیگر عارضوں میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں سموگ دل کے عارضے اور یادداشت کی کمزوری کے عارضے ”الزائمر“کا بھی سبب بن سکتی ہے۔
ماں کے بطن میں پلنے والے بچے بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں ان کی آنکھوں اور جلد کو بے حد نقصان پہنچ سکتا ہے ۔
ایک رپورٹ کے مطابق کم وبیش ملک کے اسی فیصد لوگ آلودہ فضا میں سانس لے رہے ہیں تاہم حکومتی سطح پر سموگ کے خاتمے کے لئے اقدامات ہونے چاہیے ۔جن علاقوں میں درخت کم ہیں وہاں زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی جائے ۔پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنایا جائے تا کہ ذاتی گاڑیوں کا استعمال کم ہو۔عوام کی آگہی کے لیے مہم چلائی جائے جس میں لوگوں کو سموگ سے بچاو کی تدابیر بتائی جائیں ۔
اگر حکومت اس طرف توجہ نہیں دیتی تو ہمیں قومی اور ذاتی طور پر اقدامات کرنے چاہیے جیسے کہ دھند کے اوقات میں دروازے کھڑکیاں بند رکھیں ۔بچوں اور بوڑھوں کا خاص خیال رکھیں ،باہر نکلتے وقت چہرے کو ماسک سے ڈھانپ لیں ،پوری آستینوں والے کپڑے پہنیں ،گاڑیوں اور دھواں پیدا کرنے والی چیزوں کا کم سے کم استعمال کریں ۔ہمیں عوامی سطح پر ہی اس سموگ سے لڑنا ہو گا کیونکہ حکومت کا رویہ تو انسانی زندگی کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہے ۔
میں نے کہا کہ درد ہے اس نے کہا ہوا کرے
میں نے کہا کہ مرتا ہوں اس نے کہا مرا کرے
میں نے کہا کہ سانس بھی رک رک کے آرہی ہے آج
ایسا نہ ہو کہ چل بسوں اس نے کہا خدا کرے

Monday, 12 October 2020

09:41

ایک لڑکا بےوقوف بھی تھا لیکن سمجھدار بھی تھا۔



ہوٹل پر بیٹھے  ایک  شخص نے دوسرے سے کہا  یہ ہو ٹل  پرکام کرنے والا بچہ   اتنا بے وقوف ہےکہ میں پانچ سو  اور  پچاس  کا نوٹ  رکھوں گا  تو  یہ  پچاس کا نوٹ ہی اٹھائے گا   اور ساتھ ہی بچے کو آواز دی   دو  نوٹ سامنے رکھتے ہوے  بولا ان میں سے  زیادہ پیسوں والا نوٹ اٹھا لو  بچے نے پچاس  کا نو ٹ اٹھا لیا دونو ں نے قہقہہ لگایا   اور بچہ  واپس اپنے کام پر لگ گیا   پاس بیٹھے  شخص نے  ان دونوں کے جانے کے بعد  بچے کو بلایااور پوچھا  تم اتنے  بڑے ہو  گے ہو تم کو  پچاس   اور پانچ سو کے نوٹ  میں فرق کا نہیں   پتا   یہ سن کر بچہ  مسکرایا  اور  بولا  یہ آدمی  اکثر   کسی  نا کسی  دوست  کو  میری  بیوقوفی  دیکھا  کر انجوا ئے  کرنے  کےلیے  یہ کام کرتا ہے میں پچاس کا نوٹ  اٹھا    لیتا ہوں وہ خوش ہو جاتے ہیں  اور مھجے  پچاس   روپے مل جاتے ہیں جس دن  میں نے پانچ سو  اٹھا لیا 
اس دن یہ کھیل بھِی ختم ہو جائے گا  اور  میر ی آمدنی بھی   
زندگی  بھی  اس  کھیل  کی طرح ہی ہے ہر جگہ  سمجھدار بننے کی  ضرورت  نہیں  ہوتی  جہاں  سمجھدار  بننے  سے اپنی  ہی  خوشاں متاثر  ہو تی ہوں  وہاں  بیوقوف بن جانا  ہی سمجھداری ہے   

Tuesday, 6 October 2020

11:48

اردوُمیں اسلامی معلومات


ایک زمانے میں ، ایک شریر یہودی نے صرف شرارتی طور پر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا۔ اس نے اللہ کی خدمت میں کھجور کی دانا پیش کیا اور اس شرط پر کہ اگر آج اور کل آپ اس دانا کو مٹی اور پانی کے نیچے دفن کریں گے تو یہ اتنا مضبوط کھجور کا درخت بن جائے گا اور زمین پر لہرانا شروع کردے گا جس میں پھل یعنی کھجوریں بھی اگنے لگیں گی۔ . میں آپ کی تعلیمات پر یقین کروں گا - گویا میں مسلمان ہوجاؤں گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط قبول کی اور ایک جگہ جاکر دانا کو مٹی کے نیچے دفن کردیا اور اس پر پانی ڈالا۔ انہوں نے اللہ تعالی سے دعا بھی کی اور وہیں سے واپس آئے۔ آیا-

اس یہودی کو دنیاوی اصولوں کی آزمائش سے یہ باور کرایا گیا تھا کہ کھجور کا درخت ایک دن میں نہیں بڑھ سکتا ، لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روحانیت اور اس کے اعتماد نے ان کے دل کو کھوکھلا کردیا ہے۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے کل کھجور کا درخت اگے گا اور اسے یقین کرنا پڑے گا - پھر اس نے اپنی سرگوشی کو دور کرنے کے لئے دنیاوی اصولوں کا سہارا لیا اور شام کو اس جگہ پر چلا گیا جہاں کھجور کا دانا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جس جگہ سے بویا تھا اسے وہاں سے نکالا اور خوشی خوشی لوٹتے ہوئے کہا کہ کھجور کے درخت کے سوا کسی کھجور کے درخت کے باہر آنا ناممکن ہے - لیکن وہ ایسا نہیں ہوا جان لو کہ جب یہ اللہ تعالی کے پاس آیا ہے۔ اور اگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مابین ہے تو دنیاوی مطلب بے معنی ہوجاتا ہے۔

اگلے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور یہودی مقررہ جگہ پر پہنچے تو یہودی یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کھجوروں سے بھرا ہوا ایک سخت درخت تھا - جب یہودی نے کھجور کھائی ، اس میں کوئی گری دار میوے نہیں تھے۔ پھر بے بسی سے اس کے منہ سے نکلا:

"کھوپڑی کہاں ہے؟"

روایت ہے کہ اس موقع پر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، "آپ نے گذشتہ شام دانا نکال لیا ، لہذا دانا کھجور میں نہیں ہے ، لیکن اس کے مطابق کھجور کا درخت اور کھجور ہے۔ آپ کی خواہش پر وہ یہودی اللہ تعالی کے حکم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معجزہ کو دیکھ کر مسلمان ہوگیا۔

اس واقعے کے بعد سے ، مدینہ منورہ میں گری دار میوے کے بغیر ایک معجزاتی کھجور اچھی طرح سے نشوونما پا رہی ہے - اسے دکانوں میں بھی فروخت کیا جاتا ہے - اس کھجور کا اصل نام "سکھل" ہے - یہ

اسے "سخل" بھی کہا جاتا ہے اور یہاں تک کہ اگر آپ کو یہ نام یاد نہیں ہے ، تو آپ اسے "بیجلیہ کھجور" بھی کہہ سکتے ہیں۔

اب یہاں تک کہ سب سے زیادہ جاننے والے ، خاص طور پر نباتیات کے ماہرین بھی پوچھیں گے کہ جب دانی نہیں ہیں تو چودہ سو سے زیادہ سالوں سے "خشک کھجور" کی کاشت کیسے کی جارہی ہے؟ کہ اس کے خشک پتے کھجور کے نالیوں میں مٹی کے ساتھ مل جاتے ہیں تاکہ نئے پودوں کی بنیاد بن سکے

Thursday, 27 February 2020

07:56

Marriage is the purpose.

Ata-ul-Haq Qasmi went to America when a girl asked him, "Are marriages in your country really done by the wishes of their parents without the consent of the girl and the boy is not acquainted with each other?" . ''Ata-ul-Haq Qasimi said that the thing is only true to some extent, that is, the parents of the bride decide on the wedding, but the bride must take the opinion of the bride before deciding."What if you refuse," the girl asked admirably."Yet they do." Ataul Haq Qasimi responded with a cool breath.Leading intellectuals have tried to reflect our society in the true sense. Although marriage is not only an important duty, it is also the basis of adherence to high moral and social values. Marriage was given importance so that it could grow a family and establish a regular family.Not only Islam but other religions have also encouraged marriage-like bonds, so that the cohesion of two people can protect society from evil.Marriage, of course, is very important in human life. In our childhood, our parents and siblings dream of our wedding, and when we are young, we begin to dream.The purpose of all this is not to talk about the importance of marriage and to support it, and to say no to this family system, but if we believe that marriage is the solution to all problems then it is definitely wrong.It is not wrong to marry, but there are many complications and evils that arise in the process. Unmarried men and women are often viewed as undesirable in society. Listening to different phrases becomes a daily routine. Are you married or not? You are hired by job promotion and salary hikes, which is why you are refraining from making the most important decisions in your life. Why are you in a hurry to go home? Which of your little ones are crying? Just get married now, do you intend to become a Uncle?The lives of girls are impregnated by the fact that now a prince is coming from you, so leave the castle of dreams and meet the real world. When a girl gets older, she is forced to marry on the basis of 'who and what'. On the other hand, the boy is encouraged to change his mindset to read and write.Frankly, many parents do not make timely decisions because of the fear of being left out of the search for the best and earning income from their children.Girls are highly educated and forced to take care of anyone when they do not find relationships. And even if a girl or a boy likes someone, the outdated chains of caste are put in their footsteps and they are interconnected.In our society, daughter burden is still considered and I am talking about the 21st century. In households where there are no parents and married siblings and especially siblings and nieces, arrows are fired at the girl alone and an attempt is made to get rid of her as soon as possible. The same is true of virgin boys, how long can we bake bread? Find a wife for him.But in the cycle of hurrying a wedding, a formal meeting between a boy and a girl is considered to be underscoring between them and the rush of marriage soon dissipates. You also get to hear that you are not living in England every day and every day, it is Pakistan.Now all these factors are an attempt to deviate from the marriage, rather than to engage in it. On the contrary, engagement is done so that the parties can at least test each other. Now, mindfulness does not mean you have to go out for a relaxing day in the park or do more hotels, because moderation is essential. However, it is sometimes difficult to do so, in which you can take care of boundaries.In many households, girls get married just as a burden. That is, it has now resolved its own problems on its own. They have no right to upset their families anymore. That is, the example of a girl's marriage is like burying a dead person in the grave and then coming back and then going dead and knowing her God. That's how the girl goes and her in-laws.Lack of mental cohesion and relationships in a sense of urgency do not go unnoticed. If a boy or a girl starts to get spoiled by a parent's loose or bad companionship, their immediate marriage is decided and good families are always chosen, so that they can be a wayward child or girl. Improve Now it is not thought here that boys and girls who do not obey the guidance of parents, how will they improve themselves after the prohibition of spouse after such a long time?For these reasons many young boys and girls are running away from the responsibilities of marriage. They have deviated from this marriage by considering this good way of life for themselves. While there are acceptable young people for society who are getting married and living in their own home somehow. Now whether they are happy or unhappy with their marriages is a different matter.The purpose of all this discussion is to play our major role in reducing the rate of abnormalities in society. For which they have to pay attention to the solution of the issues related to the acceptance of marriage bonds to the new generation.

Wednesday, 26 February 2020

10:33

The world is set on hope.

Suicide is not a matter of ordinary people just because of people's problems, because the common man is also upset with his family. What is the money One solution to this passport is to live and hope for its happiness. There is never Iceland or any hope in his life, but he is expected to spend it. Free, attached. Anyway, hopefully the world is on this list. If that hope is gone then what is left? I remember here in my village "Dosa Kumar", now about 60 years old. The wedding took place in the first two days after eating and still is today. It is open to the public all day for work worship and evening meal. She hopes people's lives will continue. In the event of a day of worthwhile food and a hopeful marriage, Millie's wedding will be a joy, not a panic, of activity rush. The couple can live happily ever after, with the hope that their bride will still be present. Maybe even in his yard. Accepting all the possibilities, his life moves forward and his life is now in some parts, where the average age of the rest of the people in Pakistan is. In other words, the average age of Dosa is over. Now, even if she is married, what is the probability of living in this happy marital life? There is nothing to fear, it is not a matter of federalism in Quaid-e-Azam's life, but of Allama Iqbal's dream. He must perform his duty and relinquish his responsibility to the rulers of his successor. The fact is that every day here, residents like Dosa Kumar hope to find more. You will be familiar with people's eyes. No problem. "Then there is hope. Because those who give hope are hopeful again. We believe that is also the case. These claims on their voices can be true. If true, this address cannot be traced." Pakistan, addressed by the "Young Man" program, will never catch up to the mafia and will not let anyone down. He said it was a time of trial and trial for the nation. But do not panic, They have said many encouraging things before. "They disagree. Unless they can fight for five years. By the way, waiting five years is a convenience and hope is not enough. In a house full of flaws, he will not allow the house to take shade, no matter the marriage, there is no way to cure the sick son. How is this five year waiting certificate? Due to the economic crisis, there would be no job, which was a business. what's this? Life does not suffer from such punishment, and death has its problems. What is a man then? Khan hopes there are many more prayers and they are trying too. But answering only one thing to an empty pocket class is a life of hope alone? The language is big! Except for your opponents, you're not even sure about writing stupid columns. Every day you change and reach the general public. You cannot talk to an unemployed father. Review the budget of a low-income household with a slum population. You see the helplessness of the worker himself. You go to a sick home and calculate its expenses and income